سیب حرام ہے!

یہ ایک شخص کی آب بیتی ہے جو کہتا ہے کہ:میں مسجد میں تحیۃ المسجد ادا کر رہا تھا کہ سگریٹ کی ناگوار بدبو نے مجھے بے چین کر کے رکھ دیا،خشوع و خضوع قائم رکھنا تو بعد کی بات تھی بدبو کی شدت سے نماز پوری کرنا بھی محال لگ رہا تھا

۔سلام پھیر کر دیکھا تو قریب ہی ایک آدمی نماز ادا کر رہا تھا۔ سگریٹ نوشی کی کثرت سے اس کے ہونٹ سیاہ پڑ چکے تھے۔میں نے سوچا یہ نماز سے فارغ ہو چکے تو اس سے بات کرونگا، شاید میری نصیحت سے اس پر کوئی مثبت اثر پڑ جائے۔لیکن مجھے اس وقت حیرت کا سامنا کرنا پڑا جب اس شخص کے ساتھ بیٹھے ایک نوجوان نے اسکی نماز سے فراغت پرمجھ سے پہلے ہی اس سے گفتگو کرنا شروع کی، سننے کیلئے میں نے بھی کان لگائے تو کچھ اس قسم کی بات چیت ہو رہی تھی:نوجوان: السلام و علیکم، چچا آپ کون ہیں؟وہ آدمی: میں ۔۔۔۔۔ ہوں۔نوجوان: چچا، کیا آپ نے شيخ عبدا لحميد كشك کا نام سنا ہے؟وہ آدمی: جی، میں جانتا ہوں انہیں۔

نوجوان: اچھا تو آپ شيخ جاد الحق کو بھی جانتے ہونگے؟وہ آدمی: جی، میں انہیں بھی جانتا ہوں۔نوجوان: تو آپ شيخ محمد الغزالی کو بھی جانتے ہیں؟وہ آدمی: جی، میں انہیں بھی اچھی طرح جانتا ہوں۔نوجوان: تو پھر آپ ان کی کیسٹیں اور فتاویٰ جات بھی سنتے ہونگے ناں؟وہ آدمی: جی، میں ان کی کیسٹیں بھی سنتا ہوں اور انکے فتاویٰ جات بھی۔نوجوان: آپ جانتے ہیں ناں یہ سارے شیوخ سگریٹ کو حرام کہتے ہیں، تو پھر آپ کیوں پیتے ہیں سگریٹ؟وہ آدمی: (جو اب اس ساری گفتگو سے بیزاری سی محسوس کر رہا تھا)

نہیں سگریٹ نوشی حرام نہیں ہے۔نوجوان: نہیں،حرام ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی تو یہی ہے ناں کہ (پلید چیزوں کو تم پر حرام کر دیا گیا ہے)۔ کیا کبھی سگریٹ شروع کرتے وقت آپ نے بسم اللہ پڑھی ہے یا سگریٹ ختم ہونے پر الحمدللہ کہی ہے؟وہ آدمی: (تقریبا بھناتے ہوئے) مجھے قرآن شریف کی ایک آیت دکھا دو جس میں کہا گیا ہوکہ(ويحرم عليكم الدخان) اور ہم نے تم پر سگریٹ نوشی حرام قرار دی ہے۔نوجوان: چچا یقین کیجیئے اسلام میں سگریٹ نوشی بالکل ویسے ہی حرام ہے جس طرح سیب حرام ہے۔اس آدمی کا صبر کا پیمانہ لبریز ہی ہو چکا تھا،

جھلاتے ہوئے خونخوار لہجے میں بولا۔اوئے لڑکے، تو ہوتا کون ہے کہ جس چیز کو چاہے حرام قرار دے اور جس چیز کو چاہے حلال قرار دیدے؟وہ نوجوان نہایت ہی تحمل سے بولا کہ پھر لایئے اک آیت جس میں لکھا ہو کہ (ويحل لکم التفاح) اور ہم نے تم پر سیب کو حلال کر دیا ہے۔نوجوان کی گفتگو نے اس آدمی کو ششدر ہی کر کے رکھ دیا تھا، ایسا لگ رہا تھا کہ اب رویا کہ تب،مسجد میں اقامت کی آواز گونج اٹھی تھی اور لوگ جماعت کیلیئے کھڑے ہو رہے تھے۔نماز کے بعد وہ آدمی پھر اس نوجوان کی طرف متوجہ ہوا اور بولا دیکھو نوجوان، میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آئندہ کبھی سگریٹ نوشی نہیں کرونگا۔

 

سکھ جن مسلمان عورت پر عاشق ہو گیا

فرما رکھا ہے کہ وہ انسانوں کو اذیت پہنچانے اور ان کے معاملات میں دخل اندازی کر کے ان کی گھریلو اور سماجی زندگی تباہ کرنے والے ابلیسی جنات کی پکڑ لیا کریں، مگر اس علم کی

بنا پر بہت سے جھوٹے دعویدار بھی ہوتے ہیں اور اللہ والوں کی بد نامی کا باعث بن جاتے ہیں، میرے مرید محمد الیاس قادری نے ایسے بہت سے عاملوں کے بارے میں سن رکھا تھا

جو جنات وغیرہ جیسی شیطانی مخلوق کو پکڑنے اور آسیب زدہ انسانوں کی جان ہلکی کرانے کا دعویکرتے تھے مگر وہ اپنے علمی مشاہدے کی وجہ سے یقین نہیں کرتے تھے، محمد الیاس قادری ویسے بھی لبرل حلقے میں شمار ہوتے تھے جو منطق اور حقیقت پر یقین رکھتے

ہیں. ان کے حلقہ دوستان کا شمار کیمونسٹوں میں ہوتا تھا، چند واقعات ایسے رونما ہوئے کہ انہیں اپنے نطریات تبدیل کرنے پڑ گئے.

ہو ایوں کہ ایک دن میں انکے گھر گیا تو موضوع ایسا چھڑ گیا جس میں محمد الیاس قادری بڑھ چڑھ کر تنقید کر رہے تھے، وہ جنات کے وجود کو نہ مانتے نہ ہی کرامات کے قائل تھے، اسی اثنا میں انہیں خبر ملی کہ ہمسایہ میں ایک عورت بہت بیمار ہے اور گھر والے اس کی

تیمار داری کرنے جا رہے ہیں، اس عورت کی بیماری لا علاج تصور کی جاتی تھی اور ڈاکٹروں ، حکیموں نے جواب دے دیا تھا کہ اس کو کوئی مرض نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ

بستر سے لگی ہوئی تھی اور زندگی بڑی تیزی سے ریت کی طرح مٹھی سے پھسل رہی تھی، میں نے الیاس قادری سے کہا کہ انہیں بھی خاتون کی تیماری داری کرنی چاہیے کہ اس طرح

حسن سلوک بڑھتا اور ثواب ملتا ہے، محمد الیاس قادری نے ترت جواب دیا آپ کیوں نہیں جاتے خیر میں انکے ساتھ پیر صاحب کی خواہش پر ہمسایہ کے گھر لے گیا. میں نے جب خاتون پر توجہ فرمائی تو القا ہوا کہ اسے تو سایہ ہے جسمانی نہیں روحانی بیماری ہے، یہ سن

کر گھر والے حیران ہوئے تو کہا پیر صاحب اگر اسے سایہ ہے تو اس کا علاج بھی آپ ہی

کریں، میں نے خاتون کے بستر کا حصار کیا، اس وقت وہ بے ہوش تھی اور اسے ڈرپ لگی ہوئی تھی، میں نے پڑھائی شروع ی تو ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہ مریل اور بیمار سے عورت یکدم اتھی اور تیزی سے مجھ پر جھپٹی اور ان کی آنکھیں نوچنے کی کوشش کی، سب

لوگ اچانک گھبرا گئے، میں نے کہا ہاں بھئی کون ہے تو، میں عاشق سنگھ ہوں، اس کا عاشق ہوں، تم چلے جاؤ ورنہ میں اس کو بھی مار دوں گا اور تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گا، عورت

کے لہجے میں ایک مرد انتہائی غصہ سے بول رہا تھا. تمام لوگ دم سادھے بیٹھے تھے، تو چاہتا کیا ہے ؟ میں نے سوال کیا، میں اس کو مارنا چاہتا ہوں، پچھلے 35سال سے اس پر قابض ہوں، اس کی مور ت اور موت سے ہی مجھے شانتی ملے گی، عاشق سنگھ بولا، اگر تو

جان لے کر ہی چھوڑنا چاہتا ہے تو میری لے لو، میں نے کہا تو وہ پھر مجھ پر جھپٹا، میں نے اس سے پوچھا ہم کیسے یقین کریں تو واقعی سکھ ہے، اگر سکھ ہے تو تجھے اپنے گرو کا

واسطہ ہے چلا جا کیونکہ تیرے گرو ہمارے بزرگوں کی بڑی عزت کرتے تھے. عاشق سنگھ نے اس موقع پر اپنا کلمہ بھی پڑھ کر سنایا جو عجیب سا تھا، خیر وہ تگ و دو کے بعد مان گیا

اور اس عورت کی جان چھوڑنے کے بعد بھارت چلے جانے پر رضا مند ہو گیا، اس واقعہ نے الیاس قادری کی آنکھیں کھول دیں. اگر وہ اپنی آنکھوں سے یہ نطارہ نہ دیکھتا تو یقیناًً اس حقیقت کو وہم اور جہالت گر دانتا، اس کے ساتھ ہی اس نے مجھ کو آزمانے کی کوشش کی.

انسان ایک دم اپنے نطریات سے تائب نہیں ہوتا، ہوا یوں کہ جب بھی میں قصور کے پاس اپنے گاؤں جاتا تو الیاس قادری بھی میرے ساتھ ہو لیتا، خاص طور پر جہاں جنات کا بسیرا ہوتا یا کسی کا علاج کرنا ہوتا تھا، وہ میرا بغور جائزہ لیتا اور حجتیں کرتا، بال کی کھال اتارتا قریب

ہی ایک گاؤں ہے ویر کے ، وہاں ایک گھر میں آگ لگ جایا کرتی تھی، جس کی وجہ سے گھر کا سامان بھی جل جاتا اور مکین بھی خوفزدہ رہتے تھے. گاؤں والے بھی اس گھر والوں کے پاس جانے سے کترارتے تھے، ان کی زندگی اجیرن ہو چکی تھی کیونکہ اس بات کی کوئی

ضمانت نہیں تھی کہ گھر میں کس وقت آگ لگ جائے، لوگ بڑی مشکل سے اپنی جان بچا پاتے تھے، مشہور ہو چکاتھا کہ یہاں

جنات کا پورا کنواں بیٹھا تھا، کنواں عملیات میں اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں جنات جیسی مخلوق آباد ہوتی ہے، ویر کے گاؤں کے اس گھر میں کئی کنویں تھے اور بہت زیادہ جنات آباد تھے، انہیں وہاں سے نکالنے کی ہمت کوئی بھی نہیں کرتا تھا، سب کہتے تھے کہ کوئی تگڑا

پیر یا عامل ہی ان کو وہاں سے نکال کر انسانوں کو انکے شر سے بچا سکتا ہے، یہ بہت برا متحان تھا اور الیاس قادری نے مجھے اس امتحان میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا. ایک وقت میں ایک جن کا اتار ا کرنا آسان نہیں ہوتا، عامل کو جان سے گزر کر اس انجانی اور شریر مخلوق

سے لڑنا پڑتا ہے اگر اس پر وہ قابو پا لے تو پھر شرائط بھی منوا لیتا ہے، ویر کے میں تو پورا کنوں بیٹھا ہوا تھا اور انہیں آگ لگانے کی قوت و تسخیر بھی حاصل تھی، یہ سارے ہندوا اور

سکھ جنات تھے. میں وہاں گیا اور بڑے اطمینان سے پورے کنویں کو قابو کیا اور انکے سردار کو بلا کر اسکے سامنے یہ شرط رکھ دی کہ وہ مسلمان انسانوں کو تنگ کر کے فساد پھیلا رہے ہیں جس سے انسانی بستیوں میں ہلاکتوں اور خوف کا اندیشہ ہے اس لیے وہ شرافت

سے چلے جائیں تو بہتر ہے، پہلے تو انہوں نے آگ سے مجھے ڈرانا چاہا لیکن اللہ کا کلام شیطان کے پیرو کاروں کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے، ان جنات کو بھی گاؤں چھوڑ کر انڈیا جانے پر مجبور ہونا پڑا.

اس وقت سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
عجیب و غریب
صحت اورتندرستی